Baap ki Pagri – باپ کی پگڑی

کرنے لگتی ہے اظہار پھر باتوں میں ٹال دیتی ہے
نا جانے کیوں وه اپنی محبت کو روز چُھپا لیتی ہے

پکڑوں جو کبھی ہاتھ اسکا تو خوب ملال کرتی ہے
نا جانے کیوں وه اپنی محبت کو روز چُھپا لیتی ہے

دل ہی دل میں وہ بھی میرے حال پہ مرتی ہے
نا جانے کیوں وه اپنی محبت کو روز چُھپا لیتی ہے

توڑى جو آج اُس نے خاموشى تو بولى میرے باپ کی پگڑی روز سوال کرتی ہے
تب سمجھا میں کیوں اپنى محبت کو وہ روز چُھپا لیتی ہے


Ghum Khuwar -غم خوار

کیا کریں اُس غم خوار کا جو غم کی تاب نہ لائے
جو اچھالے کل کو راز وہ تیرا رازداں کیسا؟

بچا لے آج تجھ کو بارش کی بوندوں سے
برسنے دے کل جو آگ کے شعلے وہ تیرا مکاں کیسا؟

ۂنساے آج تجھ کو عیش و عشرت میں
رُلاے کل جو حشر میں وہ تیرا جہاں کیسا ؟

مت ڈس اپنوں کو اے ابنِ آدم
جھانک کر کل ہو جس میں شرمندہ مان ّوہ تیرا گریباں کیسا؟


Dasht-e-Zindagi – دشتِ ذندگی

دشتِ زندگی گھوم کر آوں جی چاہتا ہے
اک بار پھر سے خود کو رولاوں جی چاہتا ہے

تانے بانے بنتے بنتے بیت گئ زندگی اپنی
آج پھر سے ان تانوں کو اُلجھاؤں جی چاہتا ہے

برسوں بعد ٹوٹے آئینے میں جو دیکھی تصویر اپنی
آج پھر سے اس کو دلہن بناؤں جی چاہتا ہے